بانگ درا (اردو) مکمل کتاب

Monday, 19 March 20120 comments

فہر ست
حصہ اول ـــــــ 1905 تک
غز ليات
حصہ دوم ـ 1905 سے 1908 تک
غز ليات
حصہ سوم سے 1908— —
بلاد اسلاميہ
ستارہ
دوستارے
گورستان شاہي
نمود صبح
تضمين بر شعر انيسي شاملو
فلسفہ غم

پھول کا تحفہ عطا ہونے پر
ترانہ ملي
وطنيت

ايک حاجي مدينے کے راستے ميں
قطعہ کل ايک شوريدہ خواب گاہ نبي پہ رو رو کے کہہ رہا
شکوہ
چاند
رات اور
شاعر
بزم انجم
سير فلک
نصيحت
رام
موٹر
انسان
خطاب بہ جوانان اسلام
غرہ شوال
يا ہلال عيد
شمع اور
شاعر
مسلم
حضور رسالت مآب ميں
شفاخانہ حجاز
جواب شکوہ
ساقي
تعليم اور
اس کے نتائج
قرب سلطان
شا عر
نو يد صبح

دعا
عيد پر شعر لکھنے کي فرمائش کے جواب ميں
فاطمہ بنت
عبداللہ
شبنم اور ستارے
محاصرہ
ادرنہ
غلام قادر رہيلہ
ايک مکالمہ
ميں اورتو
تضمين بر شعر ابوطالب کليم
شبلي وحالي
ارتقا
صديق
تہذيب حاضر

والدہ مرحومہ کي ياد ميں
شعاع آفتاب
عرفي
ايک خط کے جواب ميں
نانک
کفر واسلام

بلال
مسلمان اور
تعليم جديد
پھولوں کي شہز ادي
تضمين بر شعر صائب
فردوس ميں ايک مکالمہ
مذ ہب

جنگ ير موک کاايک واقعہ
مذ ہب
پيوستہ رہ شجر سے ، اميد بہار رکھ
!
شب معراج
پھول
شيکسپير
ميں اورتو
اسيري
دريوزہ خلافت
ہمايوں

خضرراہ
طلوع اسلام

غز ليات
ظر یفا نہ
مشرق ميں اصول دين بن جاتے
لڑکياں پڑھ رہي ہيں انگريزي
شيخ صاحب بھي تو پردے کے کوئي حامي نہيں
يہ کوئي دن کي بات ہے اے مرد ہوش مند
!
تعليم مغربي ہے بہت جرات آفريں
کچھ غم نہيں جو حضرت واعظ ہيں تنگ دست
تہذيب کے مريض کو گولي سے فائدہ
!
انتہا بھي اس کي ہے؟ آخر خريديں کب تلک
ہم مشرق کے مسکينوں کا دل مغرب ميں جا اٹکا ہے
''
اصل شہود و شاہد و مشہود ايک ہے''
ہاتھوں سے اپنے دامن دنيا نکل گيا
وہ مس بولي ارادہ خودکشي کا جب کيا ميں نے
ناداں تھے اس قدر کہ نہ جاني عرب کي قدر
ہندوستاں ميں جزو حکومت ہيں
ممبري امپيريل کونسل کي کچھ مشکل نہيں
دليل مہر و وفا اس سے بڑھ کے کيا ہوگي
فرما رہے تھے شيخ طريق عمل پہ وعظ
ديکھے چلتي ہے مشرق کي تجارت کب تک
گائے اک روز ہوئي اونٹ سے يوں گرم سخن
رات مچھر نے کہہ ديا مجھ سے
يہ آيہ نو ، جيل سے نازل ہوئي مجھ پر
جان جائے ہاتھ سے جائے نہ ست
محنت و سرمايہ دنيا ميں صف آرا ہو گئے
شام کي سرحد سے رخصت ہے وہ رند لم يزل
تکرار تھي مزارع و مالک ميں ايک روز
اٹھا کر پھينک دو باہر گلي ميں
کارخانے کا ہے مالک مردک ناکردہ کار
سنا ہے ميں نے، کل يہ گفتگو تھي کارخانے ميں
مسجد تو بنا دي شب بھر ميں ايماں کي حرارت والوں نے
دوستوں کے ساتھ شئیر کریں :

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 
Support : Creating Website | Johny Template | Mas Template
Template Created by Creating Website Published by Mas Template
جملہ حقوق © 2011 SirAllama Iqbal Forum سر علامہ اقبال فورم | تقویت یافتہ بلاگر
جی ایکس 9 اردو سانچہ | تدوین و اردو ترجمہ محمد یاسرعلی